Saturday, 1 February 2014

شادی کے مسائل کا حل




 شادی اور اس کے مسائل اوران کا حل
شادی کی بنیاد دو چیزیں ہیں یعنی شادی کرنے کے دو مقصد یا دو وجوہات ہوتی ہیں
 اور دونو کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے
1 : نسل انسانی کی بقا ( اولاد پیدا کرنا )  
 2 : لطف و سکون 
الله تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے-
 ( اس نے تمہارے لیے تمھاری جنس سے تمھارے لیے بیویاں بنائیں تا کے تم ان کے پاس سکوں حاصل کرو اور تمھرے درمیان محبّت ہو ) 
یہ ایک حقیت ہے کے شادی سے انسان کو سکون حاصل ہوتا ہے انسان بہت سے گناہوں سے بچ جاتا ہے- اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کے شادی شدہ افراد غیر شادی شدہ افراد کی نسبت پچاس فیصد کم بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں- 
ہمارے ہاں شادی دو طریقوں سے ہوتی ہے 
1 : محبّت کی شادی 
2 : خاندان کی طرف سے تے کی گئی شادی 
مغربی ممالک میں زیادہ تر ہر شادی تقریبا پسند اور محبّت کی شادی ہوتی ہے- لیکن وہاں محبّت کی شادیاں زیادہ تر ناکام ثابت ہوتی ہیں- وہاں طلاق کی شرح تقریبا پچاس سے پچہتر فیصد ہے- 
شادی نکام ہونے کی بھی کچھ وجوہات ہوتی ہیں- کیونکہ ہمارے ہاں بھی اور دنیا کے سب ہی ممالک میں محبّت ایک جیسی ہی ہوتی ہے- شادی سے پہلے محبوب اور محبوبہ دونوں جب آپس میں ملتے ہیں تو اپنی شخصیت کا best لے کر ایک دوسرے سے ملتے ہیں- یعنی دونو میں سے کوئی بھی اپنی خامیاں دوسرے پر ظاہر نہیں ہونے دیتا- اس لیے عاشق کو اپنے محبوب سے زیادہ دنیا میں کوئی اور اچھا نظر آتا ہی نہیں- لیکن شادی کے بعد دونوں کے لیے اپنی شخصیت کا اصل پہلو چھپانا مشکل ہو جاتا ہے-  دونوں زیادہ دیر تک اپنی خامیاں چھپا نہیں پاتے اور جیسے ہی عشق کی پٹی  آنکھوں سے اترتی ہے تو محبوب کی چوٹی چوٹی خامیاں بھی بہت نمایاں ہو جاتی ہیں- اور شادی کے چند دیں بعد وہ محبّت میں تعمیر کیا گیا خوابوں کا تاج محل دھڑام سے گر پڑتا ہے اور پھر  آپس میں گزارا کرنا مشکل ہو جاتا ہے-
دوسری طرف وہ شادیاں ہیں جو خاندان کی طرف سے طے کی جاتیں ہیں اور یہ شادیاں بنسبت محبّت کی شادیوں کے زیادہ پاےدار ثابت ہوتی ہیں- لیکن ان ایسی شادیوں کی بھی ایک بہت بری خامی ہے کہ ان لڑکے اور لڑکی کی پسند نہ پسند کا خیال نہیں رکھا جاتا- ( پسند اور محبّت میں فرق ہوتا ہے ) 
جب ہمارا مذہب تو بہت ہی آسان اور پیارا ہے قران اور حدیث دونو میں ارشاد ہے کہ
 ( نکاح کرو ان سے جو تمہیں پسند آئیں ) 
اسلام میں حکم ہے عورت کی شادی اس کی پسند کے ساتھ کرو جب کہ عورت کا والی بھی رازی ہو- اور تو اور فرمایا گیا ہے کہ نکاح سے پہلے لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے کو دیکھ لینا کا موقع بھی دو- 
لیکن ہمرے ہاں عجیب منافقت ہے لڑکیاں سارا دن تو بازاروں میں بے پردہ گھومتی رہتی ہیں لیکن جب نکاح کے لیا لڑکا دیکھنے کی خواہس کرتا ہے تو اسے غیر اخلاقی حرکت کا نام دے دیا جاتا ہی- آج کی سائنسی نفسیات بھی اس بات پر متفق ہے کے مرد عورت کو اس کے ظاہری حسن و خوبصورتی سے پسند کرتا ہے جب کہ عورت مرد کی شکل و صورت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے معاشرتی مقام کی وجہ سے پسند کرتی ہے- 
اسی لیے قرآن و حدیث میں موجود ہے کہ جب نکاح کرو تو اپنے ہمسری اور برابری کے لوگوں میں کرو ہمارے ہاں طلاق ہونے کی ایک بری وجہ یہ بھی ہے کہ نکاح میں ہمسری اور برابر کے رتبے کا خیال نہیں رکّھا جاتا- 
 شادی کے حوالے سے چند چیزیں ایسی بھی ہیں جن کا بہت کیال رکھا جانا چاہیے- عورت کے لیے شادی کی بہترین عمر 18 سے 25 سال ہے اس عمر میں پیدا ہونے والی ولاد بہت صحت مند ہوتی ہے-
اور مرد کی عمر 25 سے 30 کے درمیان ہونی چاہیے عورت کی امر مرد سے لازمی طور پر  پانچ سال تک کم ہونی چاہیے کیونکہ عورت نے اولاد پیدا کرنی ہوتی ہے تو اس کے جسم میں کشش کم ہو جاتی ہے اگر وہ مرد سے چوٹی ہو گی تو اس کے جسم میں کشش دیر تک رہے گی-
Marriage Problems
Marriage and its problems and solutions
There are two things to marriage, marriage-based two-goal or two reasons are
 And both are mentioned in the Koran
1: the survival of the human race ( to children )
 2: Enjoy the comfort
Allah Almighty says in the Holy Quran -
 (This is for you, from your wives only make you so you can get to them and love among tmhry )

We have two ways to get married
1 : The Wedding
2: Marriage and the Family
Most Western countries like every marriage , love and marriage is about - but most of the love marriages are failing - there is almost fifty and seventy five percent divorce rate -
There are also some reasons to nkam marriage - because of our own and all countries of the world have the same love - love both the beloved and the Maiden meet the best of his personality with each otherbecomes - both long and as soon as her shortcomings can not hide from the eyes of love to strip down so beloved peak to peak errors are very noticeable - and later married couple that love built in dreams Taj Mahal has to fall, and then it becomes difficult to put together -
is not - ( is the difference between like and love )
If our religion is very simple and cute in both the Qur'an and the hadith says that
 ( Like you would marry him )

But yeah strange Hypocrisy hmry girls roam around naked in the streets all day , but when the male view of marriage is kuahs renamed it goes immoral act - to agree that today's scientific psychology a woman showing her beauty and elegance of the likes the shape of a man but because of his social position like that -

 With regard to marriage , there are very few things that should be kept bananas - the best age of marriage for women is 18 to 25 years old, born Vlad is very healthy -
so it will last longer in the body attractive - 

قطرے

         قطرے کے راز اب آپ کے پاس

 قطروں کے بارے میں سب سے زیادہ غلط فہمیاں پائیں جاتی ہیں اور یہ نیم حکیموں کا پیسے بٹورنے کا سب سے برا اور کامیاب طریقہ کار ہے- پہلے یہ جان لیں کہ
 قطرے هوتے کیا ہیں ان کی حقیقت کیا ہے
 اور یہ آتے کیوں ہیں آپ کی ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی
 مرد کے زکر
 میں سے ایک رطوبت خارج ہوتی ہے جو تھوڑی تھوڑی کر کے یعنی قطرہ قطرہ خارج ہوتی ہے اس لیے اسے قطرے آنا کہتے ہیں- یہ قطرے آتے کب ہیں کیا آپ نے کبھی اس کے بارے میں سوچا ہے ؟ 


جب کوئی  مرد یا نوجوان خصوصا غیر شادی شدہ کسی سیکس کے بارے میں سوچتا ہے یا کوئی ننگی تصویر دیکھتا ہے یا کسی خوبصورت  عورت یا پھر انٹر نیٹ پر ننگی سائٹس دیکھتا ہے تب اس کے ذکر میں سے سفید مادہ قطرہ قطرہ خارج ہوتا ہے اور نوجوان کو اس کے بارے میں علم نہیں ہوتا ہے اس لیے وہ ان حکیموں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جو اسے ایک خطرناک بیماری بتاتے ہیں- لیکن آپ ذرا سوچیں کے یہ قطرے تب ہی کیوں نکلتے ہیں جب آپ سیکس کے بارے میں سوچتے ہیں یا کوئی ننگی تصویر دیکتھے ہیں تو اس کا جواب یوں ہے کہ قدرت نے انسان کے لیے ہر طرح سے اس کی ضروریات کی خیال رکھا ہے جب آپ کے سیکس کے بارے میں سوچتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے اس سے اگلا عمل مباشرت کا ہی ہوتا ہے جس کی وجہ سے آپ کے ذکر سے چند قطرے خارج هوتے ہیں جو آپ کے ذکر کے اگلے حصّے کو لیس دار یا چکنا کر دیتے ہیں اور یہ اس لیے ہوتا ہے تا کے آپ کو دخول میں آسانی ہو- اور جنس مخالف یعنی آپ کی بیوی کو تکلیف نہ ہو بلکہ وہ لطف اندوز ہو سکے- جدید تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ رطوبت(قطرے) کسی بھی طرح سے نقصان دہ نہیں ہے

جریان منی کے بارے میں غلط زبان


جریان منی کے بارے میں غلط زبان
زکر penis
 مردوں کو پیشاب یا پا خانہ سے پہلے یا بعد میں  میں سے سفید رنگ کا مادہ خارج ہوتا ہے اسے ان نیم حکیموں کی زبان میں جریان کہتے ہیں- اسے نیم حکیم بہت ہی بری بیماری کا نام دیتے ہیں جب کے ایسا کچھ نہیں ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے- حکیموں کے مطابق یہ ایک خطر ناک بیماری ہوتی ہے اور اس کا علاج کرواے بغیر شادی نہیں کی جا سکتی اور یہ مرد کو جنسی لحاظ سے کمزور تر کر دیتا ہے وغیرہ وغیرہ جب کے ان سب باتوں کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے- اس کی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ جب مرد پیشاب یا پا خانے  کے لیے زور لگاتا ہے تو اس کے Urethral gland میں سے زور لگانے کی وجہ سے ایک سفید رنگ کا مادہ نکلتا ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں ہے میڈیکل سائنس کے لحاظ سے اس مادے کا نام نہاد جریان سے کوئی واسطہ نہیں ہے نہ ہی یہ کوئی کمزوری کی علامت ہے اور نہ ہی اسے علاج کی ضرورت ہوتی ہے

جنسی موضوع

"جنسی موضوع پر آزادی کے ساتھ اظہار خیال کا خطرہ خاموشی کی سازش سے عظیم تر نہیں

اگر یہ کہا جائے کہ یہی بصیرت افروز جملہ ہمارے لئے اس بلاگ کا محرک بنا تو قطعا مبالغہ سے کام نہیں لیا جا رہا ہے ۔ آج بھی اگر ہم اپنی زبان سے لفظ "جنس، ادا کریں اور اس کے ساتھ ہی یہ غور کرنا شروع کر دیں کہ ہم کو کس حدتک اس لفظ کے مفہوم کو سمجھنے کے مواقع اور آزادی حاصل ہے ؟ معاشرہ کہاں تک اس ناگزیر زندہ حقیقت سے آگاہی حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے تو یقیناً ہم کو مایوسی ہو گی اور ہم محسوس کریں گے کہ "جنس" ایک ایسا موضوع ہے جس پر لب کشائی کی گنجائش نہیں ۔ جب جنسی وظیفہ بقائے حیات کیلئے ناگزیر اور جائز فعل تسلیم کر لیا گیا ہے تو پھر اس پر ناک بھوں چڑھانے کی کیا ضرورت ہے ؟

ہمارے معاشرے میں "جنس" کو آج تک وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جو اس کا حق تھا۔ اسے وہ اہمیت نہ مل سکی جو اسے ملنی چاہئے تھی۔ حالانکہ اس جذبے سے کوئی فرد و بشر خالی نہیں جہاں زندگی ہے وہاں جنس ہے جہاں جنس ہے وہاں زندگی ہے ۔ خود قدرت نے نسل انسانی کا دارومدار اسی جذبے پر رکھا ہے ۔ مگر اس کے باوجود جنس ایک ایسی چیز ہے جس کا ذکر ہم زبان پر نہیں لاسکتے ۔ اگر ہم میں اس کی ہمت ہے بھی تو صرف بے تکلف دوستوں کی محفل میں سرگوشی کی حد تک اور ہمارے یہ دوست کون ہیں وہ خود بھی گھٹے ہوئے ماحول کے تربیت یافتہ جو "جنس" کا واضح اور صحت مند تصور نہیں رکھتے اور صدیوں سے سرگوشیوں کے انداز میں سنے ہوئے غلط تصورات، نظریات بلکہ توہمات کو قدر جھجھک کے ساتھ صحیح متصور کرتے چلے آئے ہیں ۔ 


"جنس" بے شک ایک ناگزیر اور اہم حقیقت ہے ۔ اسے ہوّا سمجھنا فاش غلطی ہے ۔ جنس کا راز زندگی اور افزائش نسل کا راز ہے ۔ جسے صحت مند طریقے سے سمجھنے اور معلومات حاصل کرنے میں ہی ہماری فلاح و بہبود مضمر ہے ۔ لیکن آج بھی جنسی معلومات کے تمام دروازے بند ہیں ۔ یہاں وہاں کچھ کھڑکیاں ، دریچے کھلے بھی ہوں تو ان پر چلمنیں پڑی ہوئی ہیں کہ بس ذرا تانک جھانک کر سکیں ! والدین خاموش ہیں ، اسکول اور کالج کے اساتذہ چپ ہیں اور لطف تو یہ ہے کہ ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ جب یہ نونہالان قوم پڑھ کر جوان ہوں گے تو اسکول اور کالج کے امتحانات کی طرح ازدواجی زندگی میں بھی کامیابی کا ثبوت دیں گے ۔

انسانوں کے اپنے جبلی تقاضوں اور فطری خواہشات کی تکمیل کیلئے علم و فن کی ضرورت پڑتی ہے ۔ زندگی کے دوسرے تقاضوں کی طرح جنس بھی ایک تقاضہ ہے ۔ ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانا ایک فن ہے ۔ ایک آرٹ ہے اور یہ جوہر ہر شخص میں موجود ہے لیکن اسے بروئے کار لانا یا نہ لانا اس کا اپنا ذاتی فعل ہے ۔ 


جہاں تک جنسیات کا تعلق ہے ہم ایک عبوری دور سے گذر رہے ہیں ۔ پرانی قدریں ترک کر دی گئی ہیں لیکن نئی قدریں ابھی تک معلوم نہیں ہوئیں ۔ ہم نے ان مضحکہ خیز تصورات سے بلاشبہ چھٹکارا پالیا ہے کہ جنس لازماً بد اخلاقی ہے اور یہ کہ مباشرت کو ایک فن قراردینا مناسب نہیں ، لیکن ہم نے جو کچھ ترک کیا ہے اس کی جگہ نیا جنسی اخلاق معلوم کرنے میں ہم ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے ۔

جنسیات کے موضوع پر اگرچہ کتابوں کی کمی نہیں لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ زیادہ تر غیر تشفی بخش ہیں ۔ ان میں سے بعض کتابیں غیر ضروری اور ناشائستگی کا شکار ہیں ۔ بعض ایسی ہیجان انگیز ہیں کہ اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے اور زیادہ تر کتابوں میں سستی لذتیت کا چٹ پٹا مسالہ اس خوبی سے بھر دیا جاتا ہے کہ اصل چیز کا پتہ ہی نہیں چلتا۔

اس بلاگ میں ہمارا اصل مقصد یہی رہا ہے کہ حقائق پیش کر دئے جائیں اور ان سے نتائج اخذ کرنے کا کام قاری پر چھوڑدیاجائے ۔ صداقت کے کئی روپ ہیں اور ہم ان میں سے صرف گنتی کے چندروپ دیکھ سکتے ہیں ۔

ہم نے اس بلاگ کی تیاری میں کئی ماہرین جنسیات اور نفسیات کی تحریروں سے آزادانہ اور بے تکلفانہ استفادہ کیا ہے ۔ ہم ان سب کے تہہ دل سے شکر گذار ہیں ۔

جنس ایک وسیع اور دقیع موضوع ہے ۔ اس کی سرحدیں لامحدود ہیں ۔ اس کی کارفرمانیاں زندگی کے ہر شعبے میں اپنی جھلکیاں دکھاتی ہیں ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آپ کو معلوم ہو گا کہ جنس میں کتنی وسعت ہے اور اس پر حاوی ہونا، اسے انفرادی اور سماجی زندگی کی مسرتوں کے حصول میں صرف کرنا کتنا آسان ہے ۔ بشرطیکہ آپ اس کی حقیقت سے واقف ہو جائیں ۔ اس کتاب میں آپ برسوں کی تحقیقات کا نچوڑپائیں گے ۔ معلومات کا ایسا خزانہ جسے پا کر آپ محسوس کریں گے کہ اس کے بغیر کتنی تشنگی ہے ! یہ بلاگ یقینا آپ کوجنس کے حقائق سے روشناس کرائے گی۔ یہ ماہرین جنسیات کی سالہا سال کی تحقیق کا نتیجہ ہیں ۔ جن پر آپ پوری طرح بھروسہ کر سکتے ہیں ۔

آج دنیا بھر کے ماہرین جنسیات اور نفسیات کی یہ متفقہ رائے ہے کہ عورت اور مرد کو ازدواجی زندگی شروع کرنے سے پہلے جنس کے تعلق سے نظری طورپر ضرور واقفیت حاصل کر لینی چاہئے ۔ ازدواجی زندگی میں مباشرت کی مسرت حقیقی محبت کی بنیاد ہوتی ہے اسی لئے اس بلاگ میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ نئے اور پرانے شادی شدہ جوڑوں کو شادی کے جنسی پہلو سے پوری طرح روشناس کرایا جائے تاکہ وہ ان معلومات کی روشنی میں ازدواجی زندگی کامیابی سے بسر کر سکیں ۔

جنسیات کا موضوع کوئی نیا نہیں ۔ انگریزی اور اردو میں اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور جو کچھ اس بلاگ میں پیش کیا گیا ہے وہ دوسری کتابوں میں اس سے بہت بڑھ چڑھ کر بیان کیا گیا ہے ۔ یہ بلاگ معمولی پڑھے لکھے جوڑوں کیلئے لکھی گئی ہے ۔ اس لئے اس مختصر اور مفید  میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ زبان کافی حد تک سلیس اور انداز بیاں عام فہم رہے ۔ مشکل اصطلاحات کا ممکنہ حدتک استعمال نہ کیا جائے ۔ جنسیات کی اکثر کتابوں میں جنس کو حیوانی جذبے کے غلط تصور سے آزاد کرانے کی کسی نے اب تک کوشش نہیں کی بلکہ زندگی کے تمام افعال کو جنسی عینک سے دیکھا گیا۔ اس مختصر اور مفید   بلاگ  میں ان تمام باتوں سے پرہیز کر کے اس حقیقت کو بنیاد بنایا گیا ہے کہ جنسی خواہش ایک فطری اور پاک جذبہ ہے ایک مقدس بھوک ہے ۔ جنسی تربیت کے سلسلہ میں جنسیات کی کسی بھی کتاب کا منشاء اب تک یہ نہیں رہا اور اس لحاظ سے یہ پہلی کوشش ہے جو ایسے شادی شدہ جوڑوں کے ہاتھ میں جا رہی ہے جو اب تک شاید ہی کسی جنسیات کی کتاب سے استفادہ کر سکے ہوں ۔

آپ کی زندگی سے کھیلنے والا، آپ کو الجھنوں میں مبتلا کرنے والا ایک دشمن ہے "جنس"۔ اس بلاگ کی مدد سے آپ اسے اچھی طرح سمجھ لیجئے ۔ وہ آپ کا اچھا دوست بن جائے گا۔ آپ کی الجھنیں دور ہو جائیں گی۔ آپ کی زندگی سنور جائیں گی۔ اگلے وقتوں میں لوگ کسی انجانے سفر پر روانہ ہوتے تو اپنے ساتھ "قطب نما" ضرور رکھتے ۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ بلاگ آپ کے جنسی سفر میں "قطب نما" کا کام دے گی اور صحیح سمت دکھائیگی۔